Saleva Get the app

Pricing

دکان میں چیزوں کی قیمت کیسے رکھیں: لاگت، منافع، راؤنڈنگ اور قیمت بدلنے کا صحیح وقت

قیمت اندازے سے نہیں، حساب سے رکھیں۔ اصل لاگت کیسے نکالیں، مارجن اور مارک اپ کا فرق، کھلے سودے کی فی کلو قیمت، کھلے پیسوں کے حساب سے راؤنڈنگ، ساتھ والی دکان کے ریٹ، اور ریٹ کب بدلیں۔

دکاندار خاتون کاؤنٹر پر مرتبانوں پر قیمت کے ٹیگ لگاتے ہوئے

زیادہ تر دکانوں میں قیمت عادت سے رکھی جاتی ہے۔ سپلائر کا ریٹ بڑھا تو اوپر "کچھ" ڈال دیا، اور شیلف پر وہی قیمت لگ گئی جو مال آنے والے دن ٹھیک لگی۔ یہ طریقہ تب تک چلتا ہے جب تک ایک دن پتا نہ چلے کہ مہینہ بھر سیل اچھی رہی مگر گلّا خالی ہے، یا کوئی چیز پچھلے ریٹ بدلنے کے بعد سے گھاٹے میں بک رہی تھی اور کسی کو خبر نہیں ہوئی۔

قیمت رکھنے کے لیے کوئی بڑی ہوشیاری نہیں چاہیے۔ بس ہر بار ایک ہی طریقے سے حساب کریں، اور شروع اصل لاگت سے کریں۔ یہ مضمون وہی طریقہ ہے۔

بل کی قیمت نہیں، اصل لاگت سے شروع کریں

سپلائر کے بل پر لکھی قیمت آپ کی لاگت کا آغاز ہے، آخر نہیں۔ بیچنے کی قیمت طے کرنے سے پہلے وہ سب جوڑیں جو اس چیز کو شیلف تک لانے میں خرچ ہوا:

  • کرایہ اور مزدوری۔ منڈی سے رکشے کا کرایہ، مال اتارنے والے کی مزدوری، ڈیلیوری چارج۔
  • فری مال اور اسکیم۔ اگر 12 کے ساتھ 1 فری ملا تو ایک پیس کی لاگت 12 سے نہیں، 13 سے تقسیم کر کے نکالیں۔
  • پیکنگ۔ شاپر، کاغذ کے لفافے، وہ تھیلیاں جن میں آپ خود سودا بھرتے ہیں۔ کھلے سودے میں یہ خرچ اچھا خاصا بن جاتا ہے۔
  • وہ نقصان جو ہر بار ہوتا ہے۔ تولتے وقت گری ہوئی چینی، ہر کارٹن میں چند ٹوٹے بسکٹ، بوری کی تہہ میں بچا چاول۔ جو نقصان ہر بار ہوتا ہے وہ بھی لاگت ہے۔

مثال: جوس کے 24 ڈبوں کا کارٹن بل پر 1,440 روپے کا ہے۔ اس چکر میں 10 کارٹن آئے اور کرایہ 300 روپے لگا، یعنی فی کارٹن 30 روپے۔ اصل لاگت 1,470 روپے میں 24 ڈبے، یعنی فی ڈبہ 61.25 روپے، 60 نہیں۔

سوا روپیہ کچھ نہیں لگتا۔ لیکن جو چیز مہینے میں 200 بکتی ہے، اس پر یہ 250 روپے کا وہ منافع ہے جو آپ سمجھ رہے تھے کہ ملا، مگر ملا نہیں۔

مارجن اور مارک اپ ایک چیز نہیں

یہ قیمت رکھنے کی سب سے عام غلطی ہے، اور خاموشی سے پیسہ کھاتی ہے۔

  • مارک اپ وہ ہے جو آپ لاگت پر ڈالتے ہیں، لاگت کے فیصد کے طور پر۔ 80 میں خریدا، 100 میں بیچا: 20 ڈالے، جو 80 کا 25 فیصد ہے۔
  • مارجن وہ ہے جو آپ کے پاس بچتا ہے، بیچنے کی قیمت کے فیصد کے طور پر۔ 100 میں بیچا، 20 بچے: یہ 100 کا 20 فیصد ہے۔

ایک ہی چیز، وہی 20 روپے، مگر دو مختلف فیصد۔ مسئلہ تب ہوتا ہے جب دکاندار "20 فیصد منافع" چاہتا ہے، لاگت پر 20 فیصد ڈال دیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مارجن 20 فیصد ہو گیا۔ نہیں ہوا، تقریباً 16.7 فیصد ہوا۔

لاگت پر مارک اپقیمت پر مارجن
10%9.1%
20%16.7%
25%20%
33.3%25%
50%33.3%
100%50%

مارجن میں سوچنا بہتر ہے، کیونکہ جیب میں وہی آتا ہے۔ اس کا فارمولا یہ ہے:

بیچنے کی قیمت = لاگت ÷ (1 − مارجن)

مثلاً 120 روپے لاگت والی چیز پر 20 فیصد مارجن: 120 ÷ 0.80 = 150 روپے۔ جانچ لیں: 150 میں سے 120 گئے تو 30 بچے، اور 30 روپے 150 کا 20 فیصد ہے۔

اگر کاؤنٹر پر حساب مشکل لگے تو مفت پرافٹ مارجن کیلکولیٹر دونوں طرف کا حساب کر دیتا ہے۔

ہر چیز پر ایک جیسا منافع نہ رکھیں

پوری دکان پر ایک ہی فیصد رکھنا آسان ہے، مگر اکثر غلط ہوتا ہے۔ منافع چیز کی نوعیت کے حساب سے ہونا چاہیے۔

چیز کی قسممنافعوجہ
روزمرہ کا سودا جس کا ریٹ سب جانتے ہیں (آٹا، چینی، گھی، دودھ)کمگاہک کو ریٹ روپے روپے تک یاد ہوتا ہے۔ یہاں مہنگا لگا تو باقی چیزوں پر بھی بھروسہ نہیں کرے گا۔
کمپنی کا پیک مالدرمیانہ، پرنٹ ریٹ کے قریبقیمت پیکٹ پر لکھی ہے؛ آپ کا منافع اچھی خریداری سے آتا ہے۔
کم بکنے والی چیزیںزیادہہفتوں شیلف اور پیسہ دونوں روکے رکھتی ہیں۔
نازک یا جلد خراب ہونے والی چیزیںزیادہکچھ مال ٹوٹ پھوٹ یا ایکسپائری میں ضائع ہو گا۔
کاؤنٹر کے پاس رکھی چھوٹی چیزیںزیادہٹافی یا چاکلیٹ کا ریٹ کوئی تین دکانوں پر جا کر نہیں دیکھتا۔
موبائل کی چیزیں (کور، چارجر، کیبل)زیادہلاگت کم، گاہک کے لیے کام کی، اکثر کسی اور چیز کے ساتھ خریدی جاتی ہیں۔

دو باتیں ہمیشہ یاد رکھیں:

  • پیکٹ پر چھپی قیمت سے زیادہ کبھی نہ لیں۔ گاہک دیکھتے ہیں، اور کئی جگہ یہ پرائس کنٹرول کے قواعد کے بھی خلاف ہے۔ بہت سے اضلاع میں ضروری اشیاء کی سرکاری ریٹ لسٹ بھی جاری ہوتی ہے؛ جہاں لاگو ہو، اس پر عمل کریں۔
  • دواؤں کی قیمت آپ طے نہیں کرتے۔ میڈیکل اسٹور پر چھپی ہوئی قیمت حد ہے۔ آپ کا قیمت والا کام باقی شیلفوں پر ہے: بچوں کا سامان، کاسمیٹکس، عام اشیاء۔

کھلے سودے کی فی کلو قیمت

چاول، دالیں، چینی، مسالے، خشک میوہ، مٹھائی۔ یہ وہ چیزیں ہیں جہاں چھوٹی سی غلطی سینکڑوں بار دہرائی جاتی ہے۔

حساب پوری بوری سے کریں، ضائع ہونے والا وزن بھی شامل کر کے۔

مثال: 25 کلو دال کی بوری دکان تک 7,500 روپے میں پہنچی۔ تولنے اور گرنے میں فی بوری تقریباً پاؤ کلو کم ہو جاتی ہے، اور بیچنے میں تقریباً 100 روپے کی تھیلیاں لگتی ہیں۔ اصل لاگت:

  • قابلِ فروخت وزن: 24.75 کلو
  • کل خرچ: 7,500 + 100 = 7,600 روپے
  • فی کلو لاگت: 7,600 ÷ 24.75 = 307 روپے

15 فیصد مارجن پر: 307 ÷ 0.85 = 361 روپے۔ گاہک کلو، آدھا کلو اور پاؤ میں خریدتے ہیں، اس لیے چھوٹے وزن کا ریٹ الگ دیکھیں:

وزنپورا حسابراؤنڈ قیمت
1 کلو361 روپے360 روپے
آدھا کلو180.50 روپے185 روپے
ایک پاؤ (250 گرام)90.25 روپے95 روپے

غور کریں کہ چھوٹے وزن کی قیمت اوپر اور کلو کی قیمت نیچے راؤنڈ کی گئی ہے۔ یہ جان بوجھ کر ہے: پورا کلو لینے والے کو گول ریٹ ملتا ہے، اور چھوٹے پیکٹ کی قیمت اضافی تھیلی اور محنت کا خرچ پورا کرتی ہے۔ اگر پاؤ 90 کا رکھ دیا تو دکان کا سب سے زیادہ ہونے والا سودا سب سے کم کمائے گا۔

ایسی قیمت رکھیں جس کا کھلا گاہک دے سکے

87 یا 143 روپے جیسی قیمتیں کاؤنٹر پر مسئلہ بنتی ہیں: کھلے پیسے کسی کے پاس نہیں ہوتے۔ لائن چلانے کے لیے آپ نیچے راؤنڈ کر دیتے ہیں، اور وہ چھوڑے ہوئے روپے کہیں لکھے نہیں جاتے۔

راؤنڈنگ کا اصول ایک بار طے کر لیں:

  • 200 روپے سے کم: قریب ترین 5 روپے تک۔
  • 200 سے 1,000 روپے: قریب ترین 10 روپے تک۔
  • 1,000 روپے سے اوپر: جو آپ بیچتے ہیں اس کے حساب سے 50 یا 100 روپے تک۔

جہاں منافع کم ہو وہاں اوپر راؤنڈ کریں۔ 40 روپے کی چیز جس پر 4 روپے بچتے ہیں، اسے 35 کا کر دیا تو منافع تھوڑا کم نہیں ہوا، ختم ہو گیا، اور آپ لاگت سے 1 روپیہ نیچے بیچ رہے ہیں۔

ساتھ والی دکان کا ریٹ جانیں، مگر اس کے پیچھے نہ بھاگیں

ہر گاہک کے ذہن میں دو تین دکانوں کی ریٹ لسٹ ہوتی ہے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ جن چیزوں کا وہ موازنہ کرتے ہیں، ان پر آپ کہاں کھڑے ہیں۔

مہینے میں ایک بار آس پاس کی دکانوں پر 10 سے 15 چیزوں کا ریٹ دیکھ لیں: روزمرہ کا سودا، آپ کی سب سے زیادہ بکنے والی چیزیں، اور جس کے بارے میں گاہک نے کہا ہو کہ "وہاں سستا ہے"۔ لکھ لیں۔ عموماً پتا چلے گا کہ زیادہ تر پر آپ برابر ہیں، کچھ پر سستے اور چند پر مہنگے۔

پھر ہر چیز کا الگ فیصلہ کریں:

  • روزمرہ کے سودے پر برابر یا قریب رہیں۔ چینی کے کلو پر 10 روپے کی وجہ سے گیا ہوا گاہک اپنی پوری ٹوکری ساتھ لے جاتا ہے۔
  • باقی چیزوں پر ریٹ گرانے کی دوڑ میں نہ پڑیں۔ سستی دکان شاید زیادہ مقدار میں خریدتی ہو، کم کرایہ دیتی ہو، یا گھاٹا کھا رہی ہو۔ آپ کو اس کی قیمت نظر آتی ہے، لاگت نہیں۔
  • اس چیز پر مقابلہ کریں جو وہ نقل نہ کر سکے۔ پرانے گاہکوں کے لیے ادھار، گھر تک ڈیلیوری، صاف دکان، پورا مال، جلدی سروس۔ بہت سے گاہک اس دکان کو تھوڑا زیادہ دے دیتے ہیں جہاں کبھی "ختم ہے" نہیں سننا پڑتا۔

قیمت کب بدلیں

قیمت ایک بار رکھ کر چھوڑ دینے کی چیز نہیں۔ جب بھی لاگت بدلے، پرانی قیمت باسی ہو جاتی ہے۔ ان موقعوں پر بدلیں:

  1. جس دن نیا مال مہنگے ریٹ پر آئے۔ پرانا مال ختم ہونے کا انتظار نہ کریں۔ اگلی خریداری نئے ریٹ پر ہو گی، تو آج کی کمائی کو اسی کا خرچ اٹھانا ہے۔
  2. جب سپلائر کی اسکیم ختم ہو۔ اگر قیمت فری مال کے حساب سے رکھی تھی تو لاگت بڑھ گئی ہے، چاہے بل کا ریٹ وہی ہو۔
  3. جب کوئی چیز بکنا بند ہو جائے۔ ایکسپائری کے قریب پہنچنے کا انتظار کرنے کے بجائے قیمت کم کر کے پیسہ اور جگہ خالی کریں۔
  4. جب روزمرہ کے سودے پر آس پاس ریٹ بدلیں۔ یہ مہینے میں ایک بار دیکھیں، روز نہیں۔

پہلی بات مشکل لگتی ہے کیونکہ شیلف پر ابھی سستا خریدا ہوا پرانا مال پڑا ہوتا ہے۔ لیکن جو دکاندار پرانا مال ختم ہونے تک پرانا ریٹ رکھتا ہے، وہ ایسے منافع پر بیچ رہا ہے جس سے اسی مال کی دوبارہ خریداری پوری نہیں ہوتی۔ سال بھر ریٹ بڑھتے رہیں تو اسی طرح اچھی سیل والی دکان کے پاس نقدی کم پڑنے لگتی ہے۔ اس پر تفصیل انگریزی مضمون Profit vs cash میں ہے۔

جب ریٹ کم ہوں تو روزمرہ کے سودے پر گاہک کو جلدی فائدہ دیں۔ لوگ یاد رکھتے ہیں کہ ریٹ پہلے کس نے کم کیا۔

رعایت بھی قیمت ہی ہے

ڈسکاؤنٹ دراصل وقتی طور پر قیمت بدلنا ہے۔ "10 فیصد کم" کا بورڈ لگانے سے پہلے دیکھیں کہ اس سے منافع کا کیا بنتا ہے۔ جس چیز پر 20 فیصد مارجن ہے، اس پر 10 فیصد رعایت منافع آدھا کر دیتی ہے۔ اتنا ہی کمانے کے لیے دگنا بیچنا پڑے گا۔

مفت ڈسکاؤنٹ کیلکولیٹر نئی قیمت اور رعایت کا اصل خرچ پہلے ہی دکھا دیتا ہے۔ اور جو بھی رعایت دیں، بل پر لکھیں، چپکے سے کم پیسے نہ لیں۔

قیمت رکھنے کی چیک لسٹ

جب بھی نیا مال آئے یا نئی چیز شامل کریں:

  • فی پیس اصل لاگت، کرایہ، پیکنگ اور معمول کے نقصان سمیت۔
  • اس قسم کی چیز کے لیے مناسب مارجن، پوری دکان کا ایک فیصد نہیں۔
  • بیچنے کی قیمت = لاگت ÷ (1 − مارجن)۔
  • چھپی ہوئی قیمت یا سرکاری ریٹ سے زیادہ نہیں۔
  • ایسی رقم جس کا کھلا دیا جا سکے، کم منافع والی چیز پر اوپر راؤنڈ۔
  • کھلے سودے کے چھوٹے وزن کا ریٹ الگ سے جانچا ہوا۔
  • روزمرہ کا سودا ہو تو آس پاس کے ریٹ سے موازنہ۔
  • اپنے ریکارڈ میں خرید کی قیمت اپ ڈیٹ، تاکہ منافع کے اعداد درست رہیں۔

آخری بات جتنی لگتی ہے اس سے زیادہ اہم ہے۔ اگر آپ کے رجسٹر یا ایپ میں پچھلے سال کی خرید قیمت پڑی ہے تو ہر منافع کی رپورٹ غلط ہے۔ Saleva میں ہر چیز کی خرید قیمت ہی سے رپورٹس میں مجموعی منافع نکلتا ہے، اس لیے مال وصول کرتے وقت اسے اپ ڈیٹ کرنا منافع کا حساب سچا رکھتا ہے۔

دکانداروں کے سوال

کیا ہر چیز پر ایک ہی فیصد ڈالنا ٹھیک ہے؟

اگر کچھ اور نہیں تو شروعات کے لیے چل جاتا ہے، مگر اس سے کم بکنے والی اور نازک چیزیں سستی اور روزمرہ کا سودا مہنگا ہو جاتا ہے۔ اپنی چیزوں کو تین چار قسموں میں بانٹیں اور ہر قسم کا الگ مارجن رکھیں۔

سپلائر تھوڑا تھوڑا کر کے ریٹ بڑھاتا رہتا ہے۔ کیا ہر بار قیمت بدلوں؟

جو چیزیں تیزی سے بکتی ہیں ان کی ہاں۔ کم بکنے والی چیزوں کو مہینے میں ایک بار اکٹھا دیکھ لیں۔ مقصد یہ ہے کہ کوئی چیز زیادہ دیر ایسی قیمت پر نہ بکے جس سے اس کی دوبارہ خریداری پوری نہ ہو۔

جو چیز خود بناتا ہوں، جیسے مٹھائی یا بیکری کا سامان، اس کی قیمت کیسے رکھوں؟

ایک بیچ کا سارا سامان، گیس یا بجلی، پیکنگ، اور اس وقت کے مددگار کی مزدوری جوڑیں۔ پھر اسے ان پیسوں کی تعداد سے تقسیم کریں جو اس بیچ سے واقعی بنے، جو بننے چاہیے تھے ان سے نہیں۔ اس کے بعد مارجن لگائیں۔ سامان کا ریٹ بدلے تو دوبارہ حساب کریں۔

چھوٹی دکان کو کتنا منافع رکھنا چاہیے؟

کوئی ایک صحیح عدد نہیں؛ یہ اس پر منحصر ہے کہ آپ کیا بیچتے ہیں، کرایہ کتنا ہے اور مال کتنی جلدی گھومتا ہے۔ بہتر سوال یہ ہے کہ کیا مہینے کا مجموعی منافع کرایہ، تنخواہیں، بل اور گھر کا خرچ پورا کر کے کچھ بچاتا ہے؟ اگر نہیں تو ہر چیز کا مارجن الگ الگ دیکھیں۔ بریک ایون کیلکولیٹر بتاتا ہے کہ موجودہ مارجن پر مہینے میں کتنا بیچنا ضروری ہے۔

کیا پرانے گاہک کو کم ریٹ دینا غلط ہے؟

دکان آپ کی ہے، فیصلہ بھی آپ کا۔ بس اسے بل پر رعایت کے طور پر لکھیں، تاکہ مہینے کے آخر میں پتا ہو کہ یہ فیصلے کتنے کے بنے۔

یہ سب Saleva میں

Saleva چھوٹی دکانوں کے لیے مفت اینڈرائیڈ پوائنٹ آف سیل ایپ ہے: بکری، اسٹاک، گاہکوں کا ادھار، اسٹاف اور آن لائن دکان کا صفحہ۔ بیچنے کے لیے انٹرنیٹ کی بالکل ضرورت نہیں۔

Saleva مفت حاصل کریں دیکھیں یہ کیا کرتی ہے